ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کیرالہ کےاوچیرا کولم میں مجمع الامام الشافعی کے تیسرے سیمینار کا افتتاح؛ ملک بھر سے شافعی فقہاء، مفتیان اور علمائے کرام کی شرکت

کیرالہ کےاوچیرا کولم میں مجمع الامام الشافعی کے تیسرے سیمینار کا افتتاح؛ ملک بھر سے شافعی فقہاء، مفتیان اور علمائے کرام کی شرکت

Sat, 14 Jan 2023 16:17:00    S.O. News Service

اوچیرا کولم 14 جنوری (ایس او نیوز) ریاست کیرالہ کے اوچیرا کولم میں سنیچر 14 جنوری سے تین روزہ مجمع الامام الشافعی پر تیسرے سیمینار کا انعقاد عمل میں آیا۔ جس میں ملک بھر سے شافعی فقہاء، مفتیان اور علمائے کرام نے شرکت کی۔ افتتاحی تقریب میں حدیث کی شروحات اورشافعی علماء کی طرف سے فقہہ کی کتابوں کی تصنیف و تدوین پر زور دیا گیا اور بتایا گیا کہ کیرالہ سے لے کر کرناٹک اور مہاراشٹرا کے ساحل تک فقہ شافعی کے مسلمان لاکھوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں اورفقہ شافعی کے علمائے کرام ومفتیان بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں۔

ضلع کولّم کے اوچیرا میں واقع  مدرسہ دارالعلوم الاسلامیہ میں منعقدہ مجمع الامام الشافعی العالمی کے زیر اہتمام سہ روزہ سیمینار کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتےہوئے کیرالہ کے عالم دین عبدالغفور قاسمی نے بتایا کہ ہندوستان احناف کا مرکز ہے، دنیا کے بیشتر ممالک میں بھی فقہ حنفی کے ماننے والےلوگ ہی زیادہ ہیں، لیکن انڈونیشیاء میں 20 کروڑسے بھی زائد مسلمان ہیں جو فقہ شافعی پر چلتے ہیں۔ چالیس سے زائد ممالک کا سفر کرنے والے مولوی عبدالغفور قاسمی نے بتایا کہ انڈونیشیاء کے بعد ملیشیاء، افریقی ممالک کینیاء، ممباسا اور نیروبی کے مسلمان بھی فقہ شافعی پر چلتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامیات پر جو بھی کتابیں دستیاب ہیں وہ حنفی علماء کی تصنیف کردہ  ہیں اورشافعی علمائے کرام کی طرف سے حدیث کی شروحات اور فقہہ کی کتابوں کی تصنیف و تدوین کا کام نظر نہیں آتا۔ مولانا عبدالغفورقاسمی نے یہ بھی بتایا کہ کیرالہ اور کرناٹک سمیت  کونکن کے علاقوں میں آباد مسلمانوں کا تعلق اصل میں یمن سے ہے، لیکن ان کے ساتھ ہمارا رابطہ نہیں ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ  500 سال پہلے سائنس اور ٹیکنالوجی پر مسلمانوں کا دبدبہ تھا، مگر اُس کے بعد عیسائی ہر طرف غالب آگئے۔ انہوں نے مسلم علماء اور دانشوران کو اس بات پر جھنجوڑنے کی کوشش کی کہ مسلمان 500 سال سے خواب غفلت میں ہیں اور مسلمانوں کو جاگنے کی ضرورت ہے۔ اور پہلے کی طرح سائنس اور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

حیدرآباد سے تشریف فرما مولانا عبداللہ بانعیم نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے مجمع الامام الشافعی العالمی کے ذمہ داران کو تجویز دی کہ  شافعی کے سنئیر علماء کو جن کی فقہ شافعی پر خدمات رہی ہیں، ایسے سیمینار کے موقعوں پر ان کی تہنیت کی جائے. دنیا کے جن ممالک میں فقہ شافعی کے ماننے والے ہیں، اُن ممالک سے بھی فقہ شافعی کے ایسے علماء کوجو آسانی کے ساتھ دستیاب ہوں، مجمع الامام الشافعی العالمی کے سیمیناروں میں مدعو کیا جائے۔ انہوں نے فقہ شافعی کا دارالافتاء قائم کرنے کی بھی تجویز پیش کی۔ ادارہ کے نائب صدر مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی سمیت کیرالہ کے نیلمبور میں واقع مدرسہ دارالھُدیٰ کے مہتمم مولانا مجیب الرحمن نے بھی اپنے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے فقہ شافعی پرتحقیقاتی کام کرنےعلماء و اکابرین کو آگے آکر کام کرنے پر زور دیا۔

پروگرام کا آغاز دارالعلوم الاسلامیہ، اوچیرا مدرسہ کے طالب علم اسلم بن تاج الدین کولم کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، مجمع الامام الشافعی العالمی کے صدر مولانا ایوب برماور ندوی نے پروگرام کی صدارت کی۔ ادارہ کے جنرل سکریٹری مولانا عُبیداللہ ابوبکر ندوی نے سیمینار کے اغراض ومقاصد پیش کرتے ہوئے کلیدی خطاب کیا۔ مولانا ایوب برماور ندوی کی دُعا پر افتتاحی جلسہ اختتام کو پہنچا۔ ملک بھر سے فقہ شافعی سے تعلق رکھنے والے علماء و مفتی حضرات کثیر تعداد میں شریک تھے۔ ڈائس پر بھٹکل کے مولانا انصار خطیب مدنی اور مہاراشٹرا سے مفتی رفیق صاحب سمیت دیگر زمہ داران بھی موجود تھے۔

بعد نمازعصر پیام انسانیت پر جلسہ منعقد ہوا جس میں ملیالم کے کئی علماء دین نے ملیالم میں خطابات کئے۔ کیرالہ کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے علماء و مدرسہ کے طلبہ کثیر تعداد میں پروگرام میں شریک تھے۔


Share: